امیر کبیر سید علی ہمدانی (714 - 786 ) کی نگارشات میں نقوش سیرت اوراد فتحیہ کااختصاصی مطالعہ
Abstract
عالم اسلام میں بہت کم شخصیات ایسی گزری ہیں جنہوں نے تعلیم و تربیت، تزکیه و احسان اور کتاب وسنت میں رسوخ کے ساتھ ساتھ اپنے فکری، دعوتی اور فلاحی اقدامات کے ذریعے عالم اسلام کی ایک بڑے حصے کو مستفید کیا ہے. ان چند ہستیوں میں ایک ممتاز نام امیر کبیر سید علی ہمدانی کا ہے المعروف بہ شاہ ہمدان ، جو ایران کے شہر ہمدان میں 714 ھ میں ہمدان کے حکمران خاندان میں پیدا ہوئے ۔ واللہ گرامی شیخ سید شرف الدین ہممدان کے گورنر اور مشہور صوفی شیخ علاؤ الدین سمنانی آپ کے ماموں تھے ۔ بارہ سال کی عمر میں مروجہ علوم سے فراغت حاصل کی اور سیاست و اقتدار سے منسلک ہونے کے بجائے خلق خدا کی تربیت اور دین کی تبلیغ کو اپنا مشن بنایا ۔ آپ آٹھویں صدی کے مشہور صوفی، داعی، مفکر اور مصلح تھے جنہوں نے تین دفعہ پوری دنیا کی سیاحت کی۔خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیوم کی ہدایت کے مطابق اسلام کی دعوت و تبلیغ کے لئے خطہ کشمیر کا رخ کیا اور کشمیر سے گلگت بلتستان، سکر دو تک مساجد اور خانقاہوں کا جال بچھایا اور اپنے افکار اور علمی و عملی مساعی کے ذریعے اس خطے کی سیاست، معیشت، معاشرت اور ثقافت میں انقلابی تبدیلیوں کا محرک بنے وہ کشمیر کے سب سے بڑے داعی اور مبلغ تھے جن کے ہاتھ پر 37 ہزار ہندو د و بدھ بلا واسطہ مشرف باسلام ہوئے۔ ان کا دور سیاحت، اکیس سال پر محیط ہے۔ کشمیر کے علاوہ مزدقان ، ختلان ، بدخشان، بلخ، شام ، عراق ، حجاز، روم ،سری لنکا، ہندوستان ، افغانستان ، چین ، تبت اور ترکستان میں لاکھوں بندگان خدا ان سے فیضیاب ہوئے ۔