ملفوظات فوائد اور نقوش سیرت
Abstract
اہل علم اور تصوُّف سے دلچسپی رکھنے والے حضرات سے یہ امر مخفی نہیں کہ برصغیر پاک و ہند میں کئی عقیدتمندوں ، مریدوں اور خلفاء نے بڑی عقیدت و تحقیق اور محنت سے اپنے اپنے مشائخ کے مجلسی ملفوظات و ارشادات جمع کیے ہیں۔ حتیٰ کہ ہمارے محدوح حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی رحمۃاللہ علیہ (253 ھ ) کے ملفوظات کے (۳، ۴)تین چار تالیف مجموعے پائے جاتے ہیں۔ مثلاًحضرت امیر خسرو رحمۃاللہ علیہ نے افضل الفواد ( ۷۱۳ تا ۷۱۵ ھ ) اور رحۃ لمحبین (زمانہ تالیف (۷۱۹ تا ۷۲۱ ھ ) کے عنوان نے ملفوظات کے دو مجموعے مرتب کیے۔ اس طرح سید مبارک علوی کرمانی نے ’’سیدالدولیاء‘‘ کے نامہ سے ایک مجموعہ جمع کیا۔ مگر ان تمام ملفوظات یا ’’ملفوظات ادب‘‘ میں جو شہرت مقبولیت اور عوام و خواص کے نزدیک پذیرائی ان کے ملفوظات فوائد الفواد مرتبہ خواجہ حسن علاء سجزی م ۷۳۶ھ ) کے حمعروف یہ خواجہ حسن دہلوی کے حصہ میں آئی ہے وہ کسی دوسرے مجمععے کے حصے میں نہیں آسکی ۔ اس کے زبان فارسی ہے اور پانچ جلدوں / حصوں میں ۳ شعبان ۷۰۷ھ تا ۱۹ شعبان ۷۲۲ ھ تقریباً پندرہ سال تک کی ایک سوایک سو اٹھاسی (۱۸۸) مجالسی میں حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ کی گفتگو، ملفوظات اور ارشادات پر مشتمل ہے۔ اس فارسی مجموعہ کیا اردو ترجمہ بھی دستیاب ہے۔